Kartarpur Corridor

تقسیم کے وقت دونوں جانب کے لوگوں کے مابین پیش آنے والے ناخوش گوار واقعات  کو بنیاد بنا کر  دونوں ممالک کی عوام ایک دوسرے سے ان دیکھا بغض رکھتی ہے جس وجہ سے کرتار پور راہداری کھولنے  پر  دونوں جانب سے کافی تنقید دکھائی دے رہی ہے۔

 کیوں کہ پڑوسیوں کے  آپسی تعلقات اتنے اچھے نہیں ہیں لہذا  انھیں کوئی سہولت نہ دی جائے اور اس سے پاکستان کو خطرہ ہے  ,پاکستان  کو خطرہ کرتار پور راہداری کھولنے  پر نہیں بلکہ  اس تنگ نظری  سے  ضرور ہوگا ۔
 
ظلم کے خلاف کھڑا ہونا مسلمان کی شان ہوا کرتا تھا اور ہماری اس تنگ نظری نے ہمیں کہاں لا کھڑا کیا وہ مسلمان جو ایک مظلوم لڑکی کے خط پر مدد کے لئے نکل جایا کرتے تھے تقسیم کے وقت کلمے کے نام پر دی گئی دہائی پر بھی ان کے  ہاتھ نہ کانپے کس نبیﷺ کے امتی تھے جنہوں نے امن  کا  پیغام ہم تک پہنچایا  . ستر سال گزر گئے لیکن یہ تنگ نظری ہنوز برقرار ہے . یہ ملک تنگ نظری کی بنیاد  پر بنایا جاتا تو کبھی نہ بن پاتا  , یہ ملک مسلمانوں  کی تنگ نظری کی بنیاد پر تو نہ بنا تھا , بلکہ مسلمانوں کو درپیش آنے والے مختلف مسائل کو دیکھتے ہوئے  قائد  نے الگ ملک کے لئے جدو جہد کی جہاں کوئی اعلی اور ادنی نہ ہوگا کوئی کم ذات  یا اونچی ذات کا نہیں ہوگا کوئی کالا اور گورا نہیں ہوگا سب برابری کے حقوق کے ساتھ رہیں گے  اگر کسی کا مذہبی عقیدت کا مقام ہماری حدود میں ہے تو صرف اس مخصوص  احاطے کو انکے لیے کھول دینے سے کوئی قیامت  برپا نہیں ہوگی . ہماری  فوج  جو ستر سالوں سے سرحدوں کی حفاظت میں لگی ہے کیا وہ آج اتنی فارغ ہوگئی کہ بنا کسی انتظام کے راہداری بنا اور کھول دے گی ؟
الله پاک قرآن میں فرماتے ہیں کے
" آؤ ان باتوں کی طرف جو ہم میں اور تم میں یکساں ہیں "
اور ہم ستر سالوں سے ایک  دوسرے کو  مسلمان بنانے میں مشغول ہیں۔
 ہماری تنگ نظری ہمیں سوچنے ہی نہیں دیتی اس آیت کی طرف ہم ایک مسلمان ہو کر اتنے فرقوں میں تقسیم  ہو چکے ہیں  کہ یکساں باتوں کی
طرف  کسی کا دیھان نہیں  .
خدا را دل اور نظر اتنی تنگ  نہ کیجیے  خامیاں ہم میں بھی ہیں تاریخ میں گھناونے کام ہم سے بھی ہوے  ہیں انکو بنیاد بنا کر معاملات چلانا بیوقوفی کے علاوہ کچھ نہیں

اس ملک میں مسلمانوں کے علاوہ بھی مذاہب کے لوگ بستے ہیں
اقلیتوں  کے حقوق ہیں . ہمارے
کامل دین میں بہت  وسعت ہے
اگر کسی کے مذہبی عقیدت گاہ ہماری حدود میں ہیں انکو اسکی زیارت کے لیے روکنا  چھوٹی  ذہنیت ہے۔ 
انڈیا میں 30  ملین سکھ موجود ہیں جو کہ اس جذبہ خیرسگالی کیوجہ سے   پاکستان کے ممنون اور مشکور ہیں
  یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان ناچاکی اور کشیدگی دور کرنے میں معاون رہے گا۔
اس بارے میں
 زرا نہیں پورا سوچیے۔۔۔ 

Comments

Popular posts from this blog

ظالم کا انجام - فرعون سے ہٹلر تک عبرت کی کہانیاں

May2025 کی صورتِ حال پر ایک نظر۔ امید کی کرن

فرسودہ نظام